2 بہنو ں کی سبق آمیز سچی کہانی || Islamic Moral Urdu kahani || Urdu Love Story
2
بہنو ں کی سبق آمیز سچی کہانی
میری
بڑی بہن کا نام فائزہ تھا وہ مجھ سے دس برس بڑی تھی میری پیدائش کے وقت امی جان
اللہ کو پیاری ہو گئی اور میں ایک دن کی عمر میں ممتہ کے سائے سے محروم ہو گئی
والد صاحب کے لئے میری پرورش بڑا مسئلہ تھی پھپو عمر رسیدہ تھی والد صاحب کے ساتھ
رہتی تھی وہ بیوہ تھی تبھی ابو نے فائزہ کی دیکھبال ان کے سپرد کر دی لیکن مجھے دو
دن کی نوزائدہ بچی کی دیکھبال ان کے بس کی بات نہ تھی والد نے مجھے خالا جان کے
سپرد کر دی میں خالا کے گھر پرورش پانے لگی جب پندرہ برس کی ہوئی تو خالا جان بیمار
پڑ گئے تب انہوں نے ابو کو بلوا کر کہا کہ سلمان بھائی میری زندگی کا کوئی بھروسہ
نہیں بہتر ہے آپ اپنی بچی کو لے جائیں۔
ابو مجھے گھر لے آئے اس وقت بڑی بہن فائزہ پچیس
برس کی ہو چکی تھی پھپو اب بھی ساتھ رہتی تھی لیکن وہ زیادہ سوشل نہ تھی باجی فائزہ
کا رشتہ نہ ہو سکا تھا اور اس بارے میں والد صاحب بہت فکر مند تھے جب میں ابو کے
گھر آئی دل میں بڑے ارمان تھے کہ باجی سے ملوں گی مجھے دیکھ کر بڑی بہن خوش ہو گی
اور ہم ساتھ رہیں گے وقت خوبصورت ہو جائے گا یہ معاملہ اس کی برعکس نکلا باجی نے
مجھے خوش دلی سے قبول نہ کیا چاہیے تو یہ تھا کہ وہ میرا والہانا استقبال کرتی کے
ہم بہنیں مدت بعد ملی تھی لیکن انہوں نے بد سلوکی شروع کردی حیران تھی کہ یہ سگی
بہن کیسی ہے شاید کہ میں ان کو کانٹے کی طرح کھٹکنے لگی وہ اکیلے رہنے کی عادی ہو
چکی تھی اب اپنی راشدھانی میں کسی کی شراکت گوارا نہ تھی نتیجہ یہ ہوا کہ میں بھی
باجی سے بدظن ہو گئی ۔
اب
ابوہم دونوں سے ایک سا پیار کرتے تب باجی جل جاتی وہ ہمارے لئے ایک سے کپڑے اور چیزیں
لاتے میری بہن ان چیزوں کو جو میرے لئے ہوتی چھپا دیتی یا خراب کر ڈالتی میں روتی
تو پھپو چپ کراتی اور سمجھاتی کہ صبر کرو اور ابو سے شکایت نہ کرو وہ دکھی ہو جائیں
گے میرے دل میں اپنی بہن کے لئے جگہ پیدا نہ ہو سکی اور میں ان سے دور دور رہنے لگی
وہ بلائیں بھی تو جواب نہ دیتی تھی کیونکہ مجھے ان پر اعتبار نہ رہا تھا کہ جانے
کب کیا رویہ اختیار کر لے میں خالہ کے گھر خوش رہا کرتی تھی ان کی بیٹیاں خیال کرتی
بہن جیسا پیار دیتی اور سگی بہن کا یہ حال کہ مجھے دیکھتے ہی تیوری چڑھا لیتی حقارت کا اظہار یوں کرتی کہ جہاں میں
بیٹھ جاتی یہ وہاں سے اٹھ جاتی یا پھر موں پھیر کر برابر سے نکل جاتی ایسے نفرت
بھرے ماحول میں جینا دو بھر ہو گیا خالہ کے گھر کو یاد کر کے روتی جہاں اپنایت اور
محبت تھی تنہائی کا ذرہ بھر احساس نہیں تھا وہ گھر میرا نہ تھا پھر بھی میرا تھا
اور جو یہ میرے والد کا گھر تھا وہ باجی کا تھا ۔
ہر
دم یہ احساس دلاتی تھی کہ یہ گھر میرا ہے جانے تم کہاں سے آگئی ہو میرا دل جلانے
کو ان کے منہ سے نکلے الفاظ تیر کی طرح لگتے تھے آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے سوچتی
آج تو ضرور ابو سے شکایت کروں گی مگر پھپو و ہر بار آڑے آ جاتی کہ بیٹی صبر کرو صبر
کا بڑا اجرہے یہ سننے کے بعد ان کی باتوں پر غصہ آنے لگا تھا مسئلہ اثر یہ تھا کہ
میں خوبصورت تھی اور باجی فائزہ معمولی
صورت کی تھی میری نوخیز عمر تھی لہٰذا جو مجھے دیکھتا بے اختیار شکل اور صورت کی تعریف
کرتا اس پر باجی کا جی جلتا اور مجھ سےجسد محسوس کرتی تھی پانچ سال ایسے ہی گھٹ
گھٹ کر گزار دئیےاب باجی کی عمر ڈھلنے لگی تھی ابھی تک رشتہ نہ ہوا تھا رشتہ دیکھنے
جو آتے ان کی بجائے مجھے پسند کر لیتے اب وہ کہتے کہ نہیں پہلے بڑی کی شادی کروں
گا بعد میں چھوٹی کی ہوگی ۔
اس
جواب پر رشتے واپس ہو جاتے ایک روز خالہ میرے لئے اپنے دیور کی بیٹے سلطان کا رشتہ
لے کر آئے والد نے ان کو بھی وہی جواب دیا خالہ نے کہا دیکھو بھائی میرا نازرہ پر
بہت حق ہے یہ دو دن کی تھی جب گود لیا تھا اور پندرہ برس پالا ہے اب تم یہ رشتہ نہیں
ٹھکراو گےاگر ابھی شادی مقصود نہیں تو ہم انتظار کر لیتے ہیں پہلے بڑی کا بیاہ کر
لو نازرہ کا بات میں کر دینا مگر منگنی ابھی کر دو تاکہ ہمارے دل کو تسلی رہی خالہ
کا احسان ایسا نہ تھا کہ والد ان کو ناراض کر دیتےانہوں نے بات مان لی اور مگنی
سلطان سے کر دی مگنی کے بعد ہمارے سونے گھر میں بہار آ گئی خالہ اور ان کی بیٹی
آئے دن ہم سے ملنے کو آنے لگی کبھی کبھی ان کے ساتھ سلطان بھی آتے سلطان کو میں
اچھی لگتی تھی بہانے سے آتے باتیں کرنے لگتے میری خالہ ذات بھی ساتھ ہوتی رونق ہو
جاتی رفتہ رفتہ میں بھی سلطان سے مانوس ہو گئی اور ان کا انتظار کرتی ہفتہ بھر ناآتے تو شکوا کرتی اور خالہ ذات بہن ربیہ
کو پیغام دیتی کہ سلطان سے کہو آئیں ہمارا جی اداس ہے سلطان ہفتے میں ایک بار آنے
لگے ہم بات چیت کرتے یہ بات باجی کو بری لگتی سلطان کو دیکھ کر ان کے چہرے کا رنگ
بدل جاتا ناگواری کا اظہار کرنے لگتی جیسے ان کے سینے پر سانپ لوٹ جاتا ہو رفتہ
رفتہ فائزہ باجی نے میرا جینا حرام کر دیا مجھے سلطان سے بات کرنے نہ دیتی خاطر
تواضع نہ کرنے دیتی حتیٰ کہ چائے بناتی تو گرا دیتی وہ خود تو گھر کی مالکہ بنی ہوئی
تھی اور مجھ سے نوکرانی جیسے سلوک کرتی تھی ۔
ہر
وقت کی اس کی لعنت ملامت کو میں کب تک سہتی سلطان سے بھی یہ باتیں چھپاتی کہ کہیں
وہ گھر آنا نہ چھوڑ دے یا کہ رشتہ ہی نہ توڑ دے پھپو نے فائزہ کو بہت سمجھایا کہ یہ
چھوٹی بہن ہے اس کے ساتھ ایسا سلوک مت کیا کرو وہ باز نہ آئیں اصل میں تو ان کو اس
بات کا رنج تھا کہ میری منگنی ہو گئی تھی اور ان کا رشتہ ابھی تک نہیں ہو سکا تھا
میری اور سلطان کی محبت کو بھی وہ اچھی نگاہ سے نہ دیکھتی تھی ہماری محبت ان کو بری
طرح سے کھٹکتی تھی کیونکہ میری خوشی ان سے برداشت نہیں ہو پا رہی تھی اور ان کی اس
حسد بری طبیعت کا میرے پاس کوئی علاج نہیں تھا اب وہ مجھ کو مجبور کرنے لگی کہ تم
سلطان کے سامنے نہ جایا کرو اگر وہ مہمان بن کر آ جاتا ہے تو میں بڑی بہن ہوں میں
اس سے بات کروں گی چائے وغیرہ ہی میں ہی دیا کروں گی تمہیں اپنے منگیتر سے پردہ
کرنا ہوگا اس کے سامنے نہیں جانا ہوگا یہی ہمارے خاندان کی روایت ہے اس روایت کی
پاسداری نہ کروگی تو ابا سے یہ کہہ کر
تمہارا یہ رشتہ ختم کروا دوں گی۔
جب میں نے باجی کی روک ٹوک ماننے سے انکار کیا
تو انہوں نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا اور یوں یہ جھگڑا طول پکرتا گیا تھک ہار کر
میں نے سلطان سے بات چیت چھوڑ دی یوں سلطان کو یہ غلط فہمی ہو گئی کہ میں اس سے بیزار
ہو گئی ہوں اور یہ شادی نہیں کرنا چاہتی یا شاید میرا خیال تبدیل ہو گیا ہے اس نے
اپنے گھر والوں سے بھی کہہ دیا کہ شاید نازرہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ
اس کا محبت بھرا روئیہ بدل گیا ہے اور گھر آنے سے بھی منا کر دیا ہے خالہ نے مجھ
سے پوچھا میں اگر باجی کی شکایت کرتی تو وہ مجھے ہرگز معاف نہیں کرتی اور جینا دو
بھر کر دیتی تب ہی کہہ دیا کہ فل حال جب تک باجی کی شادی نہیں ہوتی سلطان ہمارے
گھر نہ آئے اور نہ ان کے گھر والے آئیں ورنہ ان کی بے عزتی ہو جائے گی خالہ سمجھیں کہ شاید میں ان کی بیزتی
کرنے کا کہہ رہی ہوں کیونکہ باجی کا نام لینے سے خوفزد ہ تھی لہذا میں نے گول مول بات کر دی خالہ کو بہت برا
لگا اور وہ خاموش ہو کر چلے گی اس دوران باجی کے لئے رشتے آئے مگر وہ مجھے پسند کر
لیتے تھے ۔
ایک
بہت اچھا رشتہ تھا اب ابو نے سوچا کہ سلطان والے تو رشتے سے پیچھے ہٹ گئے کیوں نہ نازرہ
کو ادھر دے دو یہ درمیان سے ہٹے گی تو بڑی کا موقع بنے گا انہوں نے امیر لوگ دیکھ
کر میرے رشتہ زمان سے کر دیا اور میں بزد لی کی وجہ سے ابو سے یہ وضاحت بھی نہ کر سکی
کہ سلطان کے گھر والوں کا قصور نہیں بلکہ باجی کی مجبور کرنے پر ہی میں نے خود ان
کو روکا ہے اور گھر آنے سے منع کیا ہے باجی نے بھی والد صاحب کو بالا بالا یہی
باور کروا دیا تھا کہ فائزہ سلطان سے شادی نہیں کرنا چاہتی اسی وجہ سے ان لوگوں کو
گھر آنے سے منع کیا ہے میری شادی زمان خان سے ہوگئی اور میں کسی کو بھی اپنے حالات
کی وضاحت نہ دے سکی اس وقت بڑی شدت سے ماں کی کمی محسوس ہوئی اگر وہ آج زندہ ہوتی
تو ان سے حال دل کہتی اور یوں میرے پیار کی گھڑی نہ لیتی خالہ تو ناراض تھی انہوں
نے آنا ہی چھوڑ دیا ان کو بھی دل کی بات نہ بتا سکی ۔
وہ
مجھے گستاخ اور مجرم کہتی تھی میری شادی کے بعد جیسے میری بہن کو سکون آگیا ہو
سازش کا شکار ہو کر میں تو ملتان سے لاہور بیاکر چلی گئی اور اپنے نصیب سے سمجھوتا
کر لیا لیکن والد صاحب کو بعد میں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ خالہ کو منانے ان
کے گھر گئےرشتے کی باتیں پھر سے ہونے لگیں اور خالو جان نے فائزہ کو سلطان کے لئے
مانگ لیا ابو تو یہی چاہتے تھے کہ کسی طور پر بڑی کا رشتہ ہو انہوں نے پوراں ہاں
کر دی سلطان کو ابھی والدین نے دباؤ ڈال کر منا لیا اور میری باجی میرے سابقہ منگیتر
کی بیوی بن گئی سلطانِ والدین کی خوشی کو سپر ڈالی تھی حالانکہ اس کے دل میں ابھی
تک میری یاد باقی تھی اس سے علم ہی نہ تھا کہ فایزہ ہی کی سازش ہے میں اور وہ ایک
دوسرے سے دور ہوئے تھے باجی اب بھی اسے یقین دلاتی تھی کہ نازرہ نے خود انکار کیا
تھا وہ تم سے شادی ہی نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے تمہیں گھر آنے سے منع کیا تھا
باجی تو اپنی چال میں کامیاب خوش خورم ہو گئی لیکن میری قسمت خوٹی نکلی جس بندے سے
میری شادی والد صاحب نے امیر کبیر جان کر کر دی تھی وہ پہلے سے شادی شدہ نکلا تھا
اور تین بچوں کا باپ تھا بیوی بچےساتھ لے گئی تھی زمان خان نے پہلی زوجہ کو طلاق
نہ دی تھی بلکہ وہ روٹھ کر میکے جا بیھٹی تھی جب اسے معلوم ہوا کہ زمان نے اور شادی
کر لی تو وہ اپنے بھائیوں کے ہمراہ واپس آ گئی تین بچے اس کے تین قومی ہتھیار تھے
اور اس کی پوزیشن اپنے بااثر و رسوخ بھائیوں کی بدولت کافی مضبوط تھے کافی جھگڑے
کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ زمان مجھے طلاق دیں گے اور پہلی بیوی بچے ان کے پاس رہیں
گے ۔
بچوں
کی خاطر اس شخص نے اپنے سالوں کی شرط مانی اور مجھے طلاق دے کر میکے بھیجوا دیا
مجھے تو بے قصور طلاق ہوئی تھی لیکن میری بہن نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ میں نے
سلطان کی وجہ سے گھر نہیں بسایا اور طلاق لے کر آ گئی حالانکہ ان دنوں میں امید سے
تھی بڑی بہن نے مجھے رکھنے سے انکار کر دیا والد صاحب اکیلے تھے انہوں نے شرط رکھی
تھی کہ جب تک وہ زندہ ہیں فائزہ ان کے پاس رہے گی اور سلطان گھر دماد ہوں گے اب جس
گھر میں فائزہ اور سلطان ہیں مجھے بھی وہیں رہنا تھا کیونکہ یہ میرے والد کا گھر
تھا اور میں کہاں جاتی وہ بھی اس حال میں جبکہ میں امید سے تھی جلد ہی مجھے یہ
احساس ہو گیا کہ یہاں رہنا تو سوطن کے ساتھ رہنے سے بھی زیادہ دشوار ہے سلطان میرا
خیال رکھتے تھے جبکہ سگی بہن میرے بدن سے سانس بھی کھینچ لینا چاہتی تھی فائزہ کا
جب مجھے گھر سے نکالنے پر کوئی بس نہ چلا تو اس نے ایک نہایت گھاناؤنا الزام دھر دیا
کہ فائزہ کو جب طلاق ہوئی تھی یہ امید سے نہیں تھی بلکہ اب امید سے ہو گئی ہے اور
سلطان اس کے مجرم ہے جب والد صاحب نے ایسی بات سنی تو وہ بہت پریشان ہوئے کیونکہ
وہ ضعیف ہو چکےتھے ایسے پے درپےصدمے سہنے کی ان میں ہمت نہ تھی
سلطان
کو فائزہ کی اس الزام نے سخت برافروختہ کر دیا تھا اب ساری سازش ان کی سمجھ میں
آگئی کہ ان کو حاصل کرنے کی خاطے فائزہ نے یہ سارا کھیل بنایا تھا انہوں نے میری
حالت پر دکھ تھا اور پھر انہوں نے ایسا فیصلہ کر دیا کہ جس کا تصور بھی ہم نہ کر
سکتے تھے انہوں نے کھلم کھلا بیوی کو یہ کہہ کر طلاق دے دی کہ جو عورت مجھ پر اور
سگی بہن پر ایسا گھناؤنا الزام لگا سکتی ہے وہ میری بیوی رہنے کے لائک ہی نہیں ہے
اس کو اس بھوتان پر اسی کوڑے لگنے چاہیے بہرحال میں کوڑے تو نہیں لگوا سکتا لیکن میں
اس بھوتان باز عورت کو اپنی زندگی سے علیحدہ کرتا ہوں وہ باجی کو طلاق دے کر گھر
سے چلے گئے اب تو وہ میرے خون کی پیاسی ہو گئی تھی میں نے خالہ کو فون کر دیا وہ آ
کر مجھے گھر لے گئے بچے کو جنم دینے تک میں ان کے پاس رہی پھر انہوں نے میری شادی
سلطان سے کرا دی یہ خدا نے میری کھوئی ہوئی محبت مجھے لٹا دی حالانکہ سارے معاملے
میں میرا کوئی دوش نہ تھا یہ سب کچھ میری بہن کی ہماکتوں سے ہوا ۔
تاہم
اب لوگ باجی فائزہ سے ہمدردیاں جتلاتے ہیں اور مجھے دوشی ٹھہراتے ہیں ان کا خیال
ہے کہ میں خود زمان سے طلاق لے کر آئی تھی اور اپنی بہن کا گھر اس وجہ سے خراب کیا
کہ سابقہ منگیتر سے شادی کرنا چاہتی تھی یہ تو سلطان جانتے ہیں یا پھر میرا خدا گواہ ہے کہ ایسا کچھ میں نے
سوچا اور نہ کیا یہ جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ کی مرضی سے خود بخود ہو گیا لیکن والد بھی
مجھ سے خفا رہے اور بہن بھی جبکہ میرا ضمیر مطمئن ہے کہ میں نے کوئی برائی اور
غلطی نہیں کی آج میں سلطان کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہی ہوںمیرے چار بچے ہیں
اور پہلا بچہ جو زمان خان کی اولاد ہے اسے بھی سلطان نے اپنی اولاد جیسا ہی پیار دیا
ہے میرا یہ بیٹا عدنان انہیں اپنا باپ کہتا ہے اور اسی کی خاطر ہم اپنا وطن چھوڑ
کر دیارِ گیر میں آگئے ہیں تاکہ لوگوں کی زہر آلود باتیں سن کر میرے عدنان کی
معصومیت مجروح نہ ہو۔۔۔
آج کل کے ہمارے معاشرے میں یہی کچھ ہو رہا ہے اپنے خون کے رشتے بھی دھوکہ اور فریب کرتے ہے ۔کوئی کسی کا نہیں ہے بس ہر کوئی زندگی کے اس دوڑ میں بھاگتا چلا جا رہا ہے۔دعا ہے
کہ اللہ تعلی ہر بیٹی بہن کا نصیب اچھا کرے آمین۔۔۔

Comments
Post a Comment