An Emotional Urdu Moral stories || Heart Touching Story In urdu and Hindi
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم'
کبھی
کبھی انسان کو ایسے راستوں پر چلنا پڑتا ہے جو وہ خوشی سے اختیار نہیں کرتا بلکہ
حالات اسے مجبور کر دیتے ہیں میں بھی ناچنے کا کام کرتی تھی اور یہ کام میں نے
ہرگز بھی اپنی خوشی سے نہیں کیا تھا میں پیدا ہی ایک ناچنے والی کے گھر پر ہوئی
تھی اور اسی لئے مجبوراں مجھے بھی ناچنے کا کام ہی کرنا پڑا تھا میری ماں چاہتی
تھی کہ میں پڑھوں، لکھوں اور کوئی عزتدار کام کر سکوں لیکن یہ معاشرہ ہم جیسے
لوگوں کو نہ ہی پڑھنے، لکھنے دیتا ہے اور نہ ہی عزت سے روز کمانے دیتا ہے میری ماں
نے مجھے ایک سرکاری سکول
میں داخلہ کروایا تو وہاں ہر کوئی مجھے دیکھ کر ایک ہی آواز لگاتا ارے یہ تو ناچنے
والے کی بیٹی ہے اس کا یہاں کیا کام اسے تو کسی شادی پر ناچنے کے لیے بھیج دو نا
یہاں تک کہ میرے استاد بھی مجھے نہ بخشتے اور مجھے حقارت کی نظر سے دیکھتے۔
مجھے سب سے پیچھے بٹھایا جاتا میں کوئی سوال
کرتی تو ڈانٹ کر چپ کروا دیا جاتا مجھے کسی کام میں مدد چاہیے ہوتی تو استاد میری
مدد نہ کرتے اور دوسرے بچے تو میرے قریب بھی نہ آتے جیسے مجھے کوئی موزی بیماری ہو
جو انہیں لگ جائے گی جبکہ میرا مسئلہ صرف اتنا تھا کہ میری ماں ناچ گانے کا کام
کرتی تھی البتہ سکول میں جب بھی کوئی فنکشن ہوتا تو مجھے ضرور حصہ دلوایا جاتا
میرا رقص ہمیشہ سے ہی اچھا تھا میں تو اپنی ماں کے پیٹ میں تھی جب بھی میری ماں
رقص کیا کرتی تھی اسی لیے یہ میرے خون میں بسا ہوا کام تھا میں سکول کے ہر فنکشن میں
خوب رقص کرتی ایک دن سکول کے فنکشن میں میری ماں آگئی تو اس کا سر شرم سے جھگ گیا
اس نے مجھے وہی سے مار کر سٹیج سے نیچے اتارا اور کہنے لگی اسی کام سے تو تجھے
بچانے کے لیے سکول بھیجا تھا یہاں آ کر بھی اگر تجھے یہی کرنا ہے تو پھر سکول کیوں
آتی ہے میں نے روتے ہوئے اماں سے کہا کہ مجھے تو ماسٹر جی نے یہ رقص کرنے کو کہا
تھا اماں نے ماسٹر جی کو برا بھلا کہا تو وہ الٹا میری ماں پر برہم ہو گیا اور
کہنے لگے ۔
جو
کام تیری بیٹی کو آتا ہے ہم وہی کروائیں گے نا اور پھر اب سکول میں فنکشن ہے تو
کوئی تو رقص کرے گا نا پھر تیری بیٹی کیوں نہیں اب عزتدار گھرانے کی بچوں کو تو ہم
رقص کرنے کا نہیں کہہ سکتے نا یہ سنکر اماں کا دل بہت دکھی ہوا اور اماں نے مجھے
سکول سے بھی اٹھا لیا اور پھر میں اپنے گھر میں ہی رہنے لگی لیکن میرے اندر رقص
کرنے کا شوق پیدا ہو گیا کیونکہ مجھے یہ بات اچھی طرح سمجھ آگئی تھی کہ اس کام کے
علاوہ کوئی اور کام یہ دنیا مجھے نہیں کرنے دے گی میں کہیں بھی جاؤں گی میری پہچان
اسی نام سے ہوگی کہ میں رقص کرنے والی کی بیٹی ہوں ناچنا میرا پیشہ ہے میں اماں سے
چھپ چھپ کا ناچنے لگی تھی کیونکہ اماں کو اگر پتا چلتا تو وہ میری ہڈیاں توڑ کر
رکھ دیتی اماں نہ ہی مجھے اپنے ساتھ کسی محفل میں لے جاتی تھی اور نہ ہی بلا ضرورت
گھر سے باہر نکلنے دیتی تھی اماں نے مجھے ساتھ پردوں میں چھپا کر رکھا تھا تاکہ
دنیا مجھے اماں کے حوالے سے نہ پہچانے اور
مجھے بھی یہی کام نہ کرنا پڑے لیکن قسمت نے مجھے اسی کام میں ماہر بنایا تھا اور
اسی کام کے در پر لائی تھی۔
ایک
دن اماں کو بہت تیز بخار ہوا اور تین دن کے اندر اماں چل بسی پتہ چلا کہ اماں کو
ڈینگی بخار ہوا تھا اور اسی وجہ سے اماں جان کی بازی ہار گئی تھی میری عمر صرف
سترہ سال کی تھی اماں کی موت پر میں نے بڑے مشکل سے محلے داروں کو جمع کیا تھا
کوئی بھی آنے کے لیے تیار نہیں تھا سب کا یہ کہنا تھا کہ ناچنے والی کی میت کون
اٹھائے گا اس کا جنازہ کون پڑھائے گا لیکن جب میں نے خوب رونادھونا ڈالا اور
ہنگامہ مچائے کہ میری ماں مسلمان تھی اور اس کا جنازہ پڑھانا محلے والوں کی ذمہ
داری ہے تو کچھ شریف لوگ آگے آئے اور اماں کا جنازہ پڑھایا گیا اماں کی تدفین ہو
گئی لیکن میں زندہ درگور ہو گئی نہ ہی کھانے کیلئے پیسے بچے اور نہ ہی گھر کا
کرایا دینے کیلئے اماں نے سارے زندگی بہت پیسہ کمایا تھا لیکن ہم نے اپنا گھر نہیں
خریدا تھا ۔
کیونکہ
ہم آئے روز گھر بدلتے تھے محلے والے ہمیں کسی ایک گھر میں رہنے ہی کہاں دیتے تھے
جسے بھی میری ماں کا کام پتا چلتا وہ پتھر مار کر ہمیں محلے سے نکال دیتا اسی لئے
ہم کرائے کے گھر بدلتے رہتے تھے اب اماں چلے گئی تو احساس ہوا کہ اپنا گھر ہونا
بھی نعمت ہوتی ہے مالک مکان آ کر سر پر کھڑا ہو گیا میں نے اس سے کچھ وقت کی محلت
مانگی اور پھر اتفاق سے اگلی ہی روز گھر کا دروازہ بجا میں نے ڈرتے ڈرتے دروازہ
کھولا تو ایک آدمی دروازے پر کھڑا تھا اس کی بڑی بڑی موچھیں تھیں وہ بڑی سیارنگ کی گاڑی پر
آیا تھا مجھے دیکھ کے میری ماں کا پوچھنے لگا میں نے اس سے بتایا کہ تارہ کا تو
انتقال ہو گیا ہے یہ سن کر اس کے چہرے پر کچھ پریشانی کے آثا راآئےاور پھر وہ کہنے
لگا اس نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ میرے بیٹے کی شادی پر رقص کرے گی میں نے
تو اپنے دو ستوں کو بھی بتا دیا ہے کہ تارہ آ کر ناچے گی اس کا رقص بڑا ہی مشہور
ہے اب میں کیا کروں گا ،
میرے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب بھی
نہیں تھا میں دروازہ بند کرنے لگی تو اس نے اچانک دروازہ پکڑ لیا اور کہنے لگا تو کون ہے تو
بھی تو تارہ کی جیسے ہی دیکھتی ہے اگر تو آ کر ناچ لے گی تو میں پیسے تجھے دے دوں
گا اس کی بات سونکر میں کچھ لمحوں کے لیے
سکتے میں آگئی میں آج تک نہ ہی کسی محفل میں گئی تھی اور نہ ہی کبھی کسی
محفل میں ناچ گانا کیا تھا لیکن اب مجھے پیسے کی ضرورت بھی تو تھی اور میرے سر پر
میری ماں بھی نہیں رہی تھی اگر میں میری ماں کے نام سے ہی کام شروع کرتی تو جلد ہی
میرا بھی نام بن جاتا اور زندگی آسان ہو جاتی یہی سوچ کر میں نے حامی بھر لی اور
اس آدمی کے ساتھ چل پڑی اس کے بیٹے کی شادی تھی وہ کوئی بڑا زمیندار تھا وہاں بڑے
بڑے لوگ آئے ہوئے تھے میں نے ان کے درمیان بے باکی سے ناچنا شروع کر دیا میرے دل
خون کے آنسوں رو رہا تھا ۔
لیکن
یہ ناچ مجھے میری نئی زندگی دلوانے والا تھا یہی سوچ کر میں ناچتی رہی اور پھر صبح
کا سورج طلوع ہونے کے وقت مجھے نوٹوں سے بھر کر میرے گھر چھوڑ دیا گیا میں ایک رات
میں اتنا پیسہ کما کر لائی تھی جتنا کوئی شریف انسان پورے مہینے میں محنت کر کر
بھی نہیں کما سکتا تھا اور اسی لئے میں اپنے کام میں پکی ہوگی اور میں نے عہد کر لیا کہ اب میں یہی کام کروں گی ہو بہو اپنے
ماں کے جیسی تھی اسی لئے مجھے اپنی ماں کی جگہ لینے میں زیادہ وقت نہیں لگا تھا
میں نے سارے زندگی اپنی ماں کا ناچ دیکھا تھا اسی لئے میرے پاؤں بھی اسی کی طرح
آتے میں جس محفل میں جاتی ہوں اس کی جان بن جاتی لیکن یہ کام مجھے زیادہ اچھا نہیں
لگتا تھا کیونکہ مرد بہانے بہانے سے میرے قریب ہوتے میں ناچنے لگتی تو وہ مجھے
چھونے کی کوشش کرتے اپنے کیمروں میں میرا رقص قید کرتے اور کبھی کبھی تو زبردستی
میرے ساتھ تصاویر کھنچوانے کے بہانے میرے اتنا قریب آ جاتے کہ میرے لئے سانس لینا
بھی دوبھر ہو جاتا لیکن میں انکار نہ کر پاتی کیونکہ مجھے اس کام کے بھی پیسے ملتے
تھے ۔
آہستہ آہستہ میں بھی اپنی اماں کے
جیسے ہی ہوتی جا رہی تھی سارا سارا دن سوئی پڑی رہتی اور ساری ساری رات محفل میں
خوب رونق لگاتی میرے پاس بہت پیسہ آ گیا تھا لیکن اگر کچھ نہیں تھا تو وہ سکون تھا
میری زندگی میں بالکل بھی سکون نہیں رہا تھا ہر وقت میرا ضمیر بے چین رہتا اب مجھے
سمجھ آ گیا تھا کہ میری ماں مجھے اس کام سے کیوں دور رکھنا چاہتی تھی میں نے اسے
بھی اس طرح بے چین اور تڑپتے ہوئے دیکھا تھا شاید میری ماں بھی یہ کام خوشی سے
نہیں کرتی ہوگی خیر اب اس کام کے سوا تو میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا اسی لئے بڑی مجبوری
میں ہی سہی لیکن میں یہ کام کر رہی تھی اور پھر ایک دن کمشنر کے بیٹے کی شادی تھی
شادی سے ایک رات پہلے مردوں کی محفل رکھی گئی تھی اور اس محفل میں مجھے خصوصی طور
پر بلایا گیا تھا میں تیار ہو کر انتظار کر رہی تھی کہ میرے لئے کوئی گاڑی آئے گی
کیونکہ مجھے جو بھی محفل میں بلاتا وہ گھر سے لیتا اور پھر گھر پر ہی چھوڑ کر جاتا
اور پھر دروازے پر دستک ہوئی تو میں جلدی سے تالہ لگاکر نکل پڑی دیکھا تو ایک
پولیس والا مجھے لینے کے لئے کھڑا تھا ۔
اس نے ایک نظر مجھ پر ڈالی اور پھر
نظر چورا گیا شاید وہ میری خوبصورتی سے نظر چورا رہا تھا یا پھر میرے پیشے کے وجہ
سے اسے مجھ سے حقارت محسوس ہو رہی تھی میں سمجھ نہیں پائی تھی میں اس کے ساتھ گاڑی
میں بیٹھ کے چل پڑی سارا راستہ خاموشی سے گزر گیا وہ بہت ہی ہینڈسم پولیس آفیسر
تھا میری نظر بار بار اس کے وجود پر پڑ رہی تھی اگر ایسا عزتدار اور پولیس والا
کسی عورت کے زندگی میں شامل ہو جائے تو وہ کس قدر خوش قسمت ہوگی یہی بات میرے دل و
دماغ میں چلنے لگی تھی ایک پولیس والے شوہر کے ساتھ تو عورت بڑی ہی محفوظ ہوتی ہوگی میں تو بالکل ہی خیر
محفوظ تھی ہر تقریب میں نہ جانے کتنے ہی مرد میرے ساتھ ایسا کچھ کر جاتے جسے بیان
نہیں کیا جا سکتا۔ میں محفل میں پہنچی تو مجھے دیکھ کر ایک شور مچ گیا ہر طرف سے
سیٹیوں کی آوازیں سنائے دینے لگی خوب زور و شوڑ سے گانے چلائے گئے اور پھر میرے
رقص سے وہاں موجود ایک ایک شخص لطف اندوز
ہوتا رہا لیکن اگر کوئی شخص خاموش تھا تو وہ پولیس آفیسر تھا جو کافی دور کھڑا ایک
نظر بھی مجھے دیکھ رہا تھا لیکن نہ ہی اس کے چہرے پر کوئی خوشی تھی نہ ہی کوئی جوش
وہ بالکل خاموش تھا اور جس طرح وہ مجھے دیکھ رہا تھا ایسا لگ رہا تھا اسے یہ سب
کچھ پسند نہیں آ رہا ہے ناچتے ناچتے بھی میں نے کئی دفعہ اس کی طرف دیکھا تھا اور
دل میں اس کے لئے عزت بڑھ گئی تھی،
واقعی
نہیں وہ بہت شریف و نیک تھا شاید وہ اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہاں موجود تھا کیونکہ
یہ کمیشنر کی بیٹے کی شادی تھی لیکن وہ سب کا حصہ نہیں تھا ایسے ہی صبح ہو گئی اور
پھر جب وہ مجھے چھوڑنے کیلئے میرے گھر تک لایا تو مجھے اتارتے وقت کہنے لگا کہ آپ بہت خوبصورت ہے آپ کو یہ سب زیب نہیں دیتا اس کی باتوں سےمیں
نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور کہا کہ اس کے سوا مجھے نہ ہی کوئی کام آتا ہے اور
نہ ہی دنیا کوئی کام کرنے دیتی ہے میں گھر میں داخل ہو گئی تھی اور وہ واپس چلا
گیا تھا میرے دل و دماغ میں اس کی پرچھا ئی بیٹھ گئی تھی میں سوچ رہی تھی کہ پتہ
نہیں میں کبھی اسے دیکھ سکوں گی یا نہیں اور پھر اگلی ہی شام میرے دروازے پر دستک
ہوئی اور میں نے دیکھا کہ پھولوں کے گلدستے کے ساتھ قیمتی تحفہ تھا میں حیران ہوئی
کہ یہ کس نے بھیجا ہے اور جب کھول کر دیکھا تو اس میں کارڈ تھا کہ آپ پر یہ چیزیں
زیب دیتی ہیں لیکن محفل میں نہیں اورخود بخود میرے چہرے پر مسکرہٹ پھیل گئی تھی کیونکہ اس جملے نے مجھے بتا دیا
تھا کہ یہ تحفہ کس نے بھیجا ہے میرے دل خوشی سے کھل اٹھا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ
جیسے میری بنجر زندگی میں بہار آ گئی ہو میں نے اس قیمتی تحفے کو اٹھایا وہ پازیب تھی میں نے جلدی سے اسے اپنے
پیروں میں پہن لیا کاش کہ یہ شخص میری زندگی کا حصہ بن جاتا اور ہمیشہ کے لئے مجھے
تحفظ فراہم کر دیتا میں نے دل میں یہ دعا مانگی تھی۔
اور شاید یہ قبولیت کا ہی کوئی لمحہ تھا کیونکہ
اس دن کے بعد اس طرح کے تحفے آنا شروع ہو گئے تھے اور پھر ایک دن وہ خود چلا آیا
اسے دیکھ کہ میری خوشی کی انتہا نہ رہی تھی ہم دونوں کے درمیان ملاقاتوں کا نہ
رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا تھا وہ چاہتا تھا کہ میں عزت کی زندگی گزاروں اور اس
ناچ گانے سے نکل آئوں میں بھی یہی چاہتی تھی اس لئے میں نے اسے شادی کی بات کی اور
وہ نکاح کے لئے رازی ہو گیا میرے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا تھا کہ مجھے
ہمیشہ کے لئے تحفظ ملنےوالا تھا اور پھر ایک دن اس نے خاموشی سے مجھ سے نکاح کر
لیا میں اب اس کے گھر جانا چاہتی تھی اور عزت کی زندگی گزارنا چاہتی تھی اس نے کہا
کہ وہ اگلے ہی دن مجھے اپنے ساتھ لے جائے گا میں نے اپنا سارا گھر لاک کیا کچھ
ضروری سامان باندھا اور اس کے انتظار کرنے لگی رات کے اندھیرے میں وہ مجھے لینے کے
لیے آگیا وہ مجھے لے کر ایک بہت دور دراز علاقے میں پہنچ گیا وہاں ایک چھوٹا سا
گھر تھا میں اس کے اندر داخل ہوئی تو کچھ حیران ہوئی کیونکہ کافی عورتیں برقہ پہن کر
بیٹھی تھی۔
گھر کے اندر برقہ پہنی عورتوں کو دیکھ کر میں
حیران رہ گئے میرا شوہر تو گھر میں میرے
پیچھے اندر ہی نہیں آیا تھا گاڑی لاک کرنے کے لیے رکا تھا وہ عورتیں مجھے زبردستی
کمرے میں لے گئی اور پھر میری جان نکل گئی میری چیخوں سے سارا گھر گونج اٹھا تھا
دو گھنٹے میں نے ازیت میں گزارے تھے مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میرے ساتھ ایسا
کیوں ہوا میں نے تو اپنے خوشی سے اپنے آپ کو تحافظ دینے کے لیے ابرار سے شادی کی
تھی لیکن نا جانے وہ کہاں چلا گیا تھا مجھے ان عورتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ گیا
تھا وہ عورتیں مجھ پر تشدد کر رہی تھی اور مجھ سے ایسے سوالات پوچھ رہی تھی جن کے
جواب میرے پاس نہیں تھے میں ان کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دے سکی تو ان میں سے
ایک برقا پوش عورت نے کسی کا فون ملایا اور کہنے لگی ابرار یہ عورت اتنی سیدھی
نہیں ہے تم اسے معصوم کہہ رہے تھے یہ زبان کھولنے کو بھی تیار نہیں ہے ہم اس پر ہر
طرح کا تشدد کر چکے ہیں اب تم آ کر اس کے زبان خود کھلواؤں اس عورت کے منہ سے
ابرار کا نام سنکے میرا ماتھا تھنگا اور میں سوچنے لگی کہ ابرار آخر مجھ سے کیا
چاہتا ہے اس نے مجھ سے شادی کیوں کی تھی مجھے تو لگا تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتا
ہے اسی لئے اس نے مجھ سے نکاح کیا ہے مگر اب مجھے سمجھ آ رہا تھا کہ اصل بات کو
کچھ اور تھی وہ عورتیں پچھلے دو گھنٹے سے مجھ سے جس طرح کے سوال کر رہی تھی مجھ ان
کا جواب نہیں معلوم تھا اور اگر ابرار بھی مجھ سے یہی سچ جاننا چاہتا تھا تو میں
اسے بھی کوئی جواب نہیں دے سکتی تھی کچھ دیر گزری کمرے کا دروازہ کھلا ابرار اندر
داخل ہوا اور اس نے ان چھ عورتوں کو باہر جانے کا اشارہ کر دیا وہ چھے کی چھ باہر
نکل گئیں ۔
ابرار میرے پاس آ کر بیٹھا اور کہنے
لگا میں تمہارے ساتھ کچھ بھی غلط نہیں کرنا چاہتا اگر تم ان عور توں کو شرافت سے
ہر بات بتا دیتی تو تمہیں اتنا تشدد برداشت نہیں کرنا پڑتا میں تم سے سچ میں محبت
کرتا ہوں تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا اس لئے یہاں سے چلا گیا تھا لیکن مجھے
نہیں معلوم تھا کہ تم اتنی مککار نکلو گی کہ ان کے کسی سوال کا جواب نہیں دو گی
میں نے روتے ہوئے ابرار سے کہا تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے شادی کے نام پر تم نے
مجھے ان عورتوں کے حوالے کر دیا یہ کیا پوچھنا چاہتی ہیں مجھے سچ میں علم نہیں ہے
میں نہیں جانتی کہ وہ کون سا راز ہے جو یہ مجھ سے اگلوانا چاہتی ہیں میں تو عزت کی
زندگی گزارنا چاہتی تھا اس لئے تمہاری محبت پر اعتبار کر بیٹھی لیکن تم سے اچھے تو
وہ مرد ہیں جو مجھے پیسے دے کر ناچنے کیلئے تو بلاتے ہیں کم از کم وہ میرا بھروسہ
تو نہیں توڑتے۔
میری بات سن کر ابرار کچھ لمحوں کےلیے خامو ش ہو
گیااور میرے زخموں سے رستے خون کو اس نے
اپنے ہاتھ میں پکڑے رومال سے پونجا اور کہنے لگا میں بھی سچ میں تم سے محبت کرتا
ہوں لیکن اپنے فرائز اور ذمہداریوں کی وجہ سے مجبور ہوں مجھے تمہارے پیچھے اس لئے
لگایا گیا تھا تاکہ میں تم سے وہ راز حاصل کر سکوں جو راز تمہاری ماں نے مرنے سے
پہلے ہمیں نہیں بتایا لیکن تم بھی اپنی ماں کی طرح ہی بہت پکی ہو میں نے ابرار سے
کہا مجھے سچ میں نہیں معلوم کہ تم لوگ کس فائل کی بات کر رہے ہو نہ ہی میں نے اپنی
ماں کے پاس کبھی کوئی سرخ رنگ کی فائل دیکھی ہے اور نہ ہی میں اور میری ماں پڑے
لکھے تھے کہ ہم کسی کے گھر سے کوئی فائل چوراتے پتہ نہیں کیوں تم لوگ ہم پر الزام
لگا رہے ہو ہم ناچنے والی ضرور ہیں مگر چور نہیں ہیں میری بات سن کر ابرار ہنسا
اور کہنے لگا تمہاری ماں اتنی سیدھی نہیں تھی جتنا کہ تم کہہ رہے ہو وہ بہت ہی
شاطر تھی ایسے ہی ایک وقت میں اس نے منسٹر کے گھر سے بہت اہم فائل چورا لی تھی
شادی کے گھر میں کوئی اور اس پر نظر نہ رکھ سکا اور وہ اتنے قیمتی فائل چورا کر
بھاگ نکلی اس فائل میں بہت اہم اور خفیہ دستاویزات ہیں جو سرکاری ہیں اگر وہ فائل
نہ ملی تو بہت مسئبت ہوگی اسی لیے ہم وہ فائل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔
جس دن میں تمہیں لینے کیلئے تمہارے گھر آیا تھا میں نے بہت بار تم سے پوچھنا چاہا لیکن تم ہر دفعہ ہی بات کو ختم کر دیتی اسی لیے میں نے تم سے نکاح کر لیا تاکہ میں تم سے راز اگلوا سکوں لیکن اب اوپر سے دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور ہمیں فائل کے بارے میں فورا جاننا جب ہی میں نے تمہیں ان لیڈی پولیس آفیسرز کے ہنوالے کر دیا اگر انہیں ہمارے نکاح کا ناپتہ ہوتا تو یہ تم پر اس سے بھی زیادہ تشدد کرتی اور یہ راز اگلوا لیتی لیکن اس نکاح کی وجہ سے انہوں نے مجھے بلوایا اب تم خود مجھے بتا دو کہ وہ سرخ فائل کہاں ہے تاکہ تمہاری جان بخشی ہو اور میں تمہیں اپنے گھر لے جاؤں ابرار نے بہت محبت سے میرےگالوں پر ہاتھ پھیرا تو میری آنکھوں سے آنسوں ٹپکنے لگے مجھے سچ میں کسی فائل کے بارے میں معلوم ہی نہیں تھا میں اسے کیا بتاتی مجھے تو یہ ہی نہیں پتا تھا کہ میری ماں ایسی بھی کوئی حرکت کرتی ہے میں نے تو کبھی اسے کوئی قیمتی سمان گھر لاتے نہیں دیکھا تھا ابرار کے ہر بار پوچھنے پر میں نے اسے یہی جواب دیا تو وہ بہت زیادہ غصے میں آ گیا اور اس نے میرے موہ پر ایک سناٹے دار تماشہ دے مارا اور کہنے لگا اگر تم نے یہ راز نہ بتایا تو مجھے طلاق دینا ہوگی تمہیں اور پھر تم جیل کے سلاکھوں کے پیچھے ہوگی یہ سنکہ میرے قدموں تلے سے زمین نکل گئی اور اس ڈرسے کہ کہیں وہ مجھے طلاق نہ دے دے میں نے جھوٹ کہہ دیا کہ مجھے اس فائل کا پتا ہے میری بات سن کر اس کے چہرے پر چمک آگئی میں نے اسے کہا کہ میری ماں نے وہ فائل چورائی ضرور تھی لیکن وہ اس فائل کو گھر نہیں لائی تھی بلکہ اس نے راستے میں ہی وہ فائل کسی کی حوالے کر دی تھی وہ کون تھا اور میری ماں نے ایسا کیوں کیا تھا یہ میں بھی نہیں جانتی میرے حوال میں دوبارہ نہیں جانا چاہتی تھی لوگوں کی غلیظ نظریں اس سے برداشت نہیں ہوتی تھی میں عبرار کے ساتھ اپنی زندگی کو آگے بڑھانا چاہتی تھی میرے موہ سے یہ سب کچھ سننے کے بعد عبرار نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنے گھر لے گا اپنی ماں سے ملوایا اور میں واقعی ایک عزت کی زندگی گزارنے لگی
میرے سسرال والوں کو نہیں معلوم تھا کہ عبرار مجھے کہاں سے لائے ہو اور میں کیا کام کرتی تھی میری اور عبرار کی شادی کو مہینہ ہی گزرا تھا کہ ایک دن میں اپنا گھر پوری طرح خالی کرنے کے لئے گئی کیونکہ مالک مکان چاہتا تھا کہ میں گھر کی چاویوں سے واپس کر دوں وہ گھر کسی نئے قرائداروں کو دینا چاہتا تھا میں گھر پہنچی تو سارا گھر الٹا پڑا تھا میں جانتی تھی یہ کام عبرار یا اس کے ساتھیوں کا ہی ہے اسی لئے خاموشی سے اپنا ضروری سامانت سمیٹنے لگی اپنی ماں کی یادوں کو ایجگہ کرتے اچانا کہ مجھے اپنی ماں کی ایک بات یاد آگئی میری ماں نے مرتے وقت میرا ہاتھ پکڑ کر روتے ہوئے مجھ سے کہا تھا کہ زندگی میں میں نے بہت کچھ غلط کیا لیکن اب میں سب کچھ ٹھیک کرنا چاہتی ہوں اور اسی لئے میں نے ایک بہت قیمتی چیز حاصل کی ہے جس کے وجہ سے میرے سارے گناہ دھل جائیں گے اس وقت اممہ کی بات مجھے سمجھ نہیں آئی تھی لیکن آج ماں کا سامانت سے مرتے ہوئے اچانک ہی یہ بات میرے ذہن میں آئی تھی کہ اممہ کہیں اس فائل کے بارے میں تو بات نہیں کر رہی تھی اس فائل میں ایسا کیا تھا کہ اممہ کے سارے گناہ دھل جاتے کیونکہ ایک فائل کو حاصل کرنے کے لئے منسٹر صاحب نے پوری پولیس فورس کو میرے پیچھے لگایا تھا یہی سب سوچتے سوچتے میں نے اممہ کے ضروری سامان باندھ لیا اور باقی سب کچھ اسی وقت کباڑ والے کو بلا کر فروخت کر دیا گھر پوری طرح خالی ہو گیا تھا میری اممہ مجھ سے ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ اگر تمہیں کبھی بھی میری یاد آئے تو اپنے ابا کی تصویر کو سینے سے لگا لینا میں نے دیوار پر لگی ابا کی تصویر پر نظر ڈالی جو سالوں سے ایک جگہ میں نے کبھی ابا کی تصویر کو سینے سے نہیں لگایا تھا کیونکہ مجھے اپنے ابا سے بالکل محبت نہیں تھی میں نے تو کبھی انہیں دیکھا بھی نہیں تھا لیکن آج اممہ کی بہت یاد ستاری تھی اسی لئے میں نے وہ تصویر اتار کر اپنے سینے سے لگائی لیکن اسی وقت میرے چودہ طبق روشن ہو گئے اس تصویر کے پچھلے حصے میں کچھ کاغذات لگے ہوئے تھے فائل تو نہیں تھی لیکن کچھ صفات تھے
میں نے جلدی سے وہ سارے صفات اپنے پاس چھپا لیا پتہ نہیں کیوں مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ یہ سب لوگ مل کر یہی ڈھونڈ رہے تھے میں پڑھی لکھی نہیں تھی مجھے جاننا تھا کہ ان صفوں پر کیا لکھا ہے اسی لئے میں خاموشی سے اپنے گھر سے نکلی تالہ لگایا اور اپنی پرانی دوست کے پاس پہنچ گئی جو بہت پہلے میرے ساتھ سکول میں پڑھا کرتی تھی کبھی کبھار وہ مجھ سے مل لیا کرتی تھی لیکن اپنے گھر والوں کے خوف سے اس نے مجھ سے بقائدہ کوئی تعلق نہیں رکھا تھا اتفاق تھا کہ اس وقت گھر پر کوئی بھی موجود نہیں تھا وہ اکیلی ہی تھی مجھے دیکھ کر بڑے خوشی ہوئی اسے میری شادی کی خبر مل چکی تھی میں نے جلدی سے اسے وہ کاغذ دکھائے اور کہا کہ مجھے پڑھ کر بتاؤ اس پر کیا لکھا ہے میری کہنے پر اس نے تفصیل سے وہ کاغذ پڑھنے شروع کی اور میرے سر پر آسمان گر پڑا وہ منسٹر کے سارے کالے کارناموں کی گھٹری تھی اپنے حدے کا فائدہ اٹھا کر منسٹر لڑکیوں کا کاروبار کر رہا تھا اس بات کی خبر میری ماں کو ہو گئی تھی میری ماں نے وہ فائل چھوڑا لی جس پر ساری تفصیلات تھی کہ انہیں کب کہاں سے ہخوا کر کے کہاں پہنچایا گیا تھا میری ماں اپنے ناچنے کے کام کو پسند نہیں کرتی تھی لیکن اس نے یہ فائل چھوڑا لی تاکہ پولیس کے حوالے کر سکے لیکن اس سے پہلے ہی وہ اس سے دنیا سے چلی گئے اور اب میں جان گئی تھی کہ اگر یہ فائل پولیس والوں کو مل بھی گئی تو بھی کوئی منسٹر کے خلاف کاروائی نہیں کرے گا کیونکہ یہاں قانون سچ میں ہی اندھا تھا مجرمان کو سزا نہیں ملتی تھی اور بے گناہ کے جیل سے نکلنا مشکل تھا
میں نے بہت سعود سمجھ کر اپنی دوست کی مدد سے ان تمام کاغذات کی
ویڈیو بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر ڈال دیا اور پھر وہ فائل لے کر میں اپنے شوہر
عبرار کے پاس آگئے عبرار مجھے دیکھ کر کہنے لگے تم کہاں چلی گئی تھی میں نے وہ
فائل ان کے ہاتھ میں پکڑائی اور ان سے کہا کہ آپ جس جیسے اس کا پتہ مجھ سے پوچھ
رہے تھے وہ یہ ہے اب اگر آپ سچ میں ہی اماندار ہیں تو منسٹر کے خلاف ریپورٹ درش
کروائیں وہ سب پڑھ کر عبرار بھی شوکت رہ گئے تھے انہیں یہی بتایا گیا تھا کہ یہ
بہت اہم کاغذات ہیں اور اسے کھولنی کی بجا سر نہیں ہے لیکن جب میں نے انہیں سب کچھ
بتایا تو انہوں نے سارے کاغذات خود چیک کیے اور منسٹر صاحب کی خلاف ریپورٹ بھی درش
کر لی اب آگے اس معاملے میں کیا ہوگا کیا نہیں یہ ہم دونوں نہیں جانتے عبرار پر
اوپر سے بہت پریشر ہے کہ اس معاملے کو دبا دیا جائے لیکن وہ ایمانداری سے اب تک
اپنے فیصلے پر قائم ہیں لیکن انہیں کب تک اپنے پینوں پر کھڑا رہنے دیا جائے گا یہ
میں بھی نہیں جانتی ہمارے ملک میں ایمانداری سے نوکری کرنے کو اس قدر مشکل بنا دیا
گیا ہے کہ اگر کوئی شخص صحیح راستے پر چلنا بھی چاہے تو اسے نوکری سے نکال دیا
جاتا ہے شاید یہ اسی لئے ملک میں نہ ہی امن و اماند رہا ہے اور نہ ہی انصاف

Comments
Post a Comment