Mysterious Doors That Can Never Be Opened || دنیا کے وہ پر اسرار داروازے جنہیں آج تک کوئی نہ کھول سکا

 




ناظرین گرامی بند دروازے تو کھلنے کے لیے ہوتے ہیں لیکن یہ کیا ہماری ہی اس دنیا میں کچھ دروازے ایسے بھی ہیں جو صدیوں سے اس بات پر بضد ہیں کہ کوئی بھی انہیں کھولنے کی جرات نہ کرے اور بلاخر اشرف المخلوقات یعنی حضرت انسان نے بھی ان کی خواہش کا احترام اپنے اوپر فرض کر لیا یہ بند دروازے کون سے ہیں اور کہاں کہاں واقع ہیں اس راز سے ہم آج کی اس تحریرمیں پردہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

 معزز خواتین اور حضرات عام مشاہدے کے مطابق عموماً کوئی بھی عمارت اور خاص طور پر بڑے ہوٹلوں کی پہچان ان میں موجود سہولتوں یا 


src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjPknTjqzwFWrTf57D6kqpaWEpAWb_klaEQ3yHTo3VIcU6VCiGnpl3nYe-ARgKNSKUDXMQ2Oet00VKD9WMivNC6U6sLIf7Fxl7rHs0GHd5uf17gQmhxl3G8xc8F322OZZX2ZFEbcBtn6tfPPbCQKlnThyphenhyphensXLIw03J5tBnol6UMr2oBmeXS-ND4RGMM4Xwo/w522-h303/maxresdefault.jpg" width="522" />

طرز تعمیر کے علاوہ ان کی وسط اور جدد کو بھی مانا جاتا ہے ۔

لیکن شاید آپ میں سے اکثر دوستوں کے لیے یہ ایک نئی بات ہو کہ کینیڈا میں ایک ایسا ہوٹل بھی ہے جو ان تمام خوبیوں کے بوجود اپنے دامن میں سنبھالے ایک ایسے کمرے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے جس کو کھولے ہوئے ایک زمانہ گزر چکا ہے لیکن اس ہوٹل کی انتظامیاں اب بھی اس بند دروازے سے ہزاروں ڈالرز کما رہی ہے دوستو اس ہوٹل کی بالائی منزل پر موجود کمرہ نمبر 873 کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ سن 1915 کی ایک شب یہاں ایک نیا شادی شدہ جوڑہ مقیم تھا کہ دلہن کسی کام کے سلسلے میں ریسیپشن کی طرف آئی لیکن سیڑھیوں کے قریب اسے کسی نادیدہ قوت نے دھکا دے کر گرا دیا جس کی وجہ سے اس کی موقع پر موت ہو گئی لیکن اس کو ایک عام سا حادثہ سمجھ کر بھلا دیا گیا اور پھر اگلے دن یہی کمرہ ایک اور فیملی کو دے دیا گیا مگر وہ لوگ بھی کمرے میں گنجنے والی خوفناک آوازوں کی وجہ سے ساری رات سو نہ سکے حتیٰ کہ کسی غیبی قوت نے اسی دوران کمرے کی دیواروں پر خون کے چھینٹے بھی پھینک دیے جس سے ماحول مزید خوفناک ہو گیا اور پھر اگلی صبح ہوٹل انتظامیاں نے ان دھبوں کو دھو کر اس فیملی کو ایک اور کمرے میں شفٹ کر دیا لیکن ناظرین کمال حیرت کی بات یہ ہے کہ مٹائے ہوئے خون کے وہ نشانات اگلے ہی دن از خود پھر دیواروں پر نمودار ہو گئے جس کی وجہ سے اس کمرے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا اور انیس سو پندرہ سے لے کر آج تک اس کمرے کو کبھی نہیں کھولا گیا ۔


ناظرین گرامی اس کے علاوہ گیارویں صدی اسوی میں بھارت میں تعمیر ہونے والے اس مندر کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے جو کہ اگرچہ پرانی طرز تعمیر کا شہکار ہے لیکن اس کی اصل پہچان اس کی وہ سات زیر زمین منزلیں یا کمرے ہیں جو ایک زمانے سے بند پڑے تھے اور پھر ایک دفعہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے یہ حکم دیا کہ ان پراسرار تہہ خانوں  کو کھول کر دیکھا جائے کہ ان میں کیا راز دفن ہے اور جب ان ویسے پانچ تہہ خانیں کھولے گئے ۔


تو کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو ان کے اندر سے نکلنے والی روشنی کو جذب کر سکتی جو وہاں پر موجود ٹنو کے حساب سے سونے سے نکل رہی تھی یہ ایک ایسا خزانہ تھا جو اپنی مالیت سے کسی بھی ملکی معیشت میں ایک نئی روح ڈال سکتا تھا اور ایک اندازے کے مطابق اس کا ایک ہزار ٹریلین روپے کے برابر تخمینا بنتا تھا لیکن جب چھٹے تہہ خانے کے بند دروازے کو کھولنے کی کوشش کی گئی تو وہاں پر موجود صادووں نے احتجاج کرنا شروع کر دیا مگر حکومت کے سامنے بھلا کس کی چلتی ہے تو چھٹے تیخانے کو کھولنے کا آغاز کیا گیا جو کہ لوہے کا بنا ہوا تھا لیکن اس کے کھلنے پر انکشاف ہوا کہ اس کے پیچھے ابھی بھی ایک اور لکڑی کا دروازہ موجود ہے مگر بھارتی حکومت کو اس وقت گھٹنے ٹکنے پڑے جب یہ انکشاف ہوا کہ اس دروازے کے پیچھے بھی بند دروازوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جس کی وجہ سے اس پر کام بند کر دیا گیا اور پھر ساتوے یعنی آخری دروازے کو کھولنے کی کوشش کی گئی جو کہ ایک مخصوص دھات کے بغیر کسی نٹ بولٹ کے بنا ہوا تھا جبکہ اس پر دھات سے بنے دو بڑے بڑے سانپ موجود تھے جن کو دیکھ کر اچھے اچھے سورماؤں کا پتہ بھی پانی ہو گیا تھا جس کے بارے میں ایک صادو نے یہ دعویٰ کیا کہ اس دروازے کو ایک ہندو جادوگر نے اپنے علم کی طاقت سے بند کیا تھا اور اب اس کو صرف علم کی طاقت سے ہی کھولا جا سکتا ہے جبکہ ایک روایت کے مطابق اس دروازے کو کھولنے کے لیے اب تک لا تعداد ماہرین جادو منتر پڑ چکے ہیں لیکن کسی کو بھی کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کے اندر لا تعداد زہریلے سامپوں کا بسیرہ ہے ۔

دوستو اسی طرح تاج محل کو بھی دنیا بھر کے لیے ایک انوکھا عجوبہ تصور کیا جاتا ہے اور شاہ جہان سے منصوب اس عمارت کو کئی


مذہبوں میں مختلف نشانیوں سے عبارت کیا جاتا ہے لیکن اسی تاج محل کی خوبصورت عمارت میں بھی کسی حد تک پور اسراریت چھپی ہوئی ہے جسے عام و خاص آج تک جاننے سے قاسر ہے کیونکہ اس محل میں ابتداہی سے ایک ایسا دروازہ موجود رہا ہے جس کو ہمیشہ سے بند پایا گیا اور یوں محسوس ہوتا ہے ۔


 

کہ گویا اس دروازے کو چونہ سخت قسم کے پتھر اینٹوں اور اسی قسم کی پختہ اور مختلف چیزوں کی مدد سے سیل کیا ہوا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں بھی ہزاروں قسم کی ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود ازاد ملکی حکومت بھی اسے کھولنے سے گریزہ ہے ویسے تو اس بات کا اندازہ لگانا کافی مشکل ہو سکتا ہے کہ ان دروازوں کے پیچھے کون سے راز دفن ہیں لیکن کچھ تجزیہ نگاروں کا اندازہ ہے اور ان کے مطابق یہ بات کسی حد تک یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اس محل کو شاہ جہان نے نہیں بنوایا تھا بلکہ یہ کوئی اور طرز پر بنی عمارت تھی اور اس کی اصلیت کچھ اور تھی اور وہی اصلیت ان پوراسرار دروازوں کے پیچھے چھپی ہوئی ہے جو تاج محل میں موجود ان پوراسرار دروازوں کو کھولنے اور ان میں داخل ہونے سے معنی ہے ۔

ناظرین گرامی ان کے علاوہ مصر میں موجود گریٹس فینکس اوگیزا ایک ایسے بڑے مجسمے کا نام ہے جو جیزا کے علاقے میں موجود ہے اس کی لمبائی 199 فٹ اور انچائی 65 فٹ کے قریب ہے جو دور سے دیکھنے پر ایک پہاڑ نظر آتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ مجسمہ 3000 سال قبل مسیح ایک بڑی چٹان کو تراش کر بنایا گیا تھا اس کے پنجے اور دھڑ شیر کے ہیں اور سر انسان کا ہے اور سورج دیوتا کی حیثیت سے اس کی پوجہ بھی کی جاتی ہے لیکن دوستو اس کے بارے میں بھی یہ بات مشہور ہے

کہ اس بڑے مجسمے کے بائیں پاؤں کے نیچے ایک پر ا سرار دروازہ موجود ہے جسے ہول آفتی ریکارڈز کا نام دیا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس دروازے کے پیچھے ہزاروں قسم کے راز دفن ہیں یہاں تک کہ اس میں کھوئے ہوئے شہر اٹلانٹس اور اس دیوہیکل مجسمے کی معلومات بھی مل سکتی ہیں اس کے علاوہ مزید کہا جاتا ہے کہ اس دروازے میں ایسے راز بھی پوشیدہ ہیں جن کا تعلق مصر اور امریکہ کی حکومت سے بھی ہے جس کا ثبوت گرام ہینکوک اور رابر دی ویل کی لکھی ہوئی کتاب دی میسیج آف دیس فینیکس میں ملتا ہے اس کتاب میں یہ بتایا گیا ہے کہ کیسے مصری اور امریکی حکومت ان دروازوں کی حفاظت کے لیے مختلف ہتھکندے استعمال کر رہی ہے تاکہ کوئی بھی انسان ان دروازوں تک پہنچنے سے قاسر رہے ۔

دوستو یہ وہ چار دروازے تھے جو تاریخی دنیا میں ایک پر ا سرار معمہ بنے ہوئے ہیں اب حقیقت کیا ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے


Comments

Popular posts from this blog

An Emotional Urdu Moral stories || Heart Touching Story In urdu and Hindi

Tareekh Ki 7 Badbakht Aurtain || Islamic Story || islami Waqiat in Urdu || Islamic Stories