Tareekh Ki 7 Badbakht Aurtain || Islamic Story || islami Waqiat in Urdu || Islamic Stories
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
تاریخ میں ایسی گناہگار عورتیں گزری ہیں جن کے
بارے میں اللہ پاک نے اپنی کتاب قرآن مجید میں ذکر کیا ہے یہ عورتیں نہ صرف
انسانوں کی گمراہی کا باعث بنیں بلکہ بعض تو اللہ کے پیارے انبیاء اکرام کو بھی
قتل کرانے میں پیش پیش رہیں
حضرت لوط علیہ اسلام کی بیوی: اردن اور اسرائیلی سرحدوں پر جہاں آج ڈیڈ سی نمکین پانی کی جھیل
موجود ہے، نمک سے بھری اس جھیل میں آج زندگی کا کوئی نام و نشان نہیں تاہم آج سے
ہزاروں سال پہلے یہ انتہائی ذرخیز علاقہ تھا جہاں سدوم اور امورا نامی شہر آباد
تھے ۔
یہی
وہ قوم تھی جس پر اللہ نے حضرت لوط علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا اس قوم کا
گناہ بہت بڑا تھا ایسا گناہ اس سے پہلے کسی قوم نے نہ کیا تھا اس قوم کے مرد مردوں
کے ساتھ اور عورتیں عورتوں کے ساتھ بدکاری کرتی تھی حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی
جس کا نام وائلا تھا وہ بظاہر تو حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی تھی لیکن وہ اندر
سے کافروں کے ساتھ ملی ہوئی تھی وہ اپنی قوم کا ساتھ دیتی تھی اس بیوی کے لیے اور
کیا بدنصیبی ہوگی کہ یہ عورت ساری زندگی ایک نبی کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اللہ کے
حکم کی نافرمان رہی جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے آپ کی باتوں کو ماننے سے
انکار کیا تو اللہ کے فرشتے نوجوانوں کی صورت میں اس بستی میں ظاہر ہوئے جو حضرت لوط
علیہ السلام کے گھر میں قیام پذیر ہوئے ۔
حضرت
لوط علیہ السلام کی بیوی جو اپنی قوم صدوم
کے ساتھ ملی ہوئی تھی اس نے جا کے اپنی قوم کو بتا دیا کہ نوجوان ہمارے گھر ٹھہرے
ہوئے ہیں ہیں ان لوگوں نے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیا
اس پر فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام کو ان کی قوم پر عذاب لانے کی خبر سے آگاہ
کیا اور آپ علیہ السلام کو حکم دیا کہ آپ اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکل
جائیے حضرت لوط علیہ السلام ابھی راستے میں ہی تھے کہ ان لوگوں پر اللہ کی طرف سے
پتھروں کی بارش ہونا شروع ہو گئی آپ علیہ السلام کی بیوی جو اپنی قوم کا ساتھ دیتی
تھی وہ بھی اپنی قوم کے ساتھ ہی پتھروں کی بارش میں ماری گئی صدوم کے پہاڑوں میں
آج بھی وائلہ کی آبادی موجود ہے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا تذکرہ قرآن پاک
کے علاوہ بائبل میں بھی موجود ہے ۔
نمبر2۔
حضرت نو ح علیہ السلام کی بیوی :قوم نو ح شرک جیسے گناہ میں مبتلا تھی اس قوم کے
لوگوں نے اپنے سرداروں اور نیک لوگوں کے بت بنا لیے ان کی عبادت اور پوجہ شروع کر
دی اللہ تعالی نے حضرت نو ح علیہ السلام کو اس قوم پر معبوث فرمایا یہ قوم اتنی
ظالم اور نافرمان تھی کہ وہ اپنے نبی حضرت نو ح علیہ السلام کے گھر میں داخل ہو کر
آپ علیہ السلام پر ظلم کرتے اور آپ کو بے یاروں مددگار چھوڑ جاتے حضرت نو ح علیہ
السلام کو مجلسوں سے نکال دیا جاتا اور آپ کی بیوی بھی ان کافروں سے ملی ہوئی تھی۔
مفسرین حضرت نو علیہ السلام کی بیوی کا نام
واہلا یا واگلابیان کرتے ہیں یہ عورت کافر
ہی نہیں بلکہ اس کا رہن سہن بھی کافروں جیسا تھا حضرت نو علیہ السلام کی بیوی
کافروں میں شریک ہو کر آپ علیہ السلام کو دیوانا اور مجنو ں قرار دیتی یہ عورت
بتوں کی بڑی تعریف کرتی تھی جب کوئی بندہ بتوں کو چھوڑ کر ایک خدا کی طرف مائل ہوتا
تو یہ عورت اپنی قوم میں جا کر اس آدمی کا نام بتا دیتی جس سے قوم نو ح کے لوگ اس
بندے کو مارتے اور پیٹتے اس طرح سے وہ بندہ بھی ڈر اور خوف کے مارے بتوں کی پوجہ
کرنے پر دوبارہ آمادہ ہو جاتا۔
واہلا نامی اس عورت نے حضرت نو ح علیہ السلام کے
ایک بیٹے یام کو بھی کفر میں مبتلا کر رکھا تھا لہٰذا آپ کا یہ بیٹا بھی ماں کی
طرح کافروں سے مل کر آپ علیہ السلام کی مخالفت کرتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی
بدبختی قرآن پاک میں بیان کی ہے اور اس کی تفسیریں احوال بابل میں بھی درج ہیں جب
اللہ پاک نے حضرت نو ح علیہ السلام کی قوم پر سیلاب کا عذاب نازل کیا تو آپ علیہ
السلام کی بیوی اور نافرمان بیٹا یام بھی اپنی قوم کے ساتھ برباد ہو گئیے۔
نمبر3۔دلائلہ
وہ عورت ہے جس کا نام کئی صدیوں سے بے وفائی اور دغا بازی میں بہت مشہور رہا ہے
دلائلہ کا ذکر قرآن پاک اور بائبل میں پڑھنے کو ملتا ہے واقعہ کچھ یوں ہے کہ حضرت
موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کی قوم قوم عمالقہ کی محقوم بن چکی
تھی تو اللہ پاک نے اس قوم میں بہت ہی طاقتور لڑکے کو پیدا کیا جس کا نام سیمسن
تھا سیمسن اس قدر طاقتور تھا کہ وہ اکیلا ہی ہزار بندوں کا مقابلہ کر لیتا تھا قوم
بن اسرائیل نے اس بندے کی صلاحیتوں اور بہادری دیکھتے ہوئے سیمسن کو اپنی قاضی کے
عہدے پر فائز کر دیا اور سیمسن کی طاقت کے ذریعے قوم عمالقہ پر فتح حاصل کرنے کی
کوشش میں لگ گئے دوسری طرح قوم عمالقہ سیمسن کی طاقت کا راز جاننا چاہتی تھی اس
لیے انہوں نے اپنی قوم کی ایک لڑکی جس کا نام دلائلہ تھا اس کو سیمسن کی بہادری
اور اس کی صلاحیت کا راز دریافت کرنے کے لیے سیمسن کے پاس بھیجا سیمسن اس لڑکی کو
دیکھ کر پاگل ہو گیا ۔
اور
اس کی محبت میں وہ دیوانہ ہو گیا اس نے اس لڑکی کو اپنی صلاحیتوں کا راز بتا دیا
سیمسن کہنے لگا کہ اس کی طاقت کا راز اس کے لمبے بال ہیں ایک دن موقع پاتے ہی
دلائلہ نے سیمسن کے لمبے بال کاٹ دیئے تو اسی رات قوم امالکہ نے بھی سیمسن پر حملہ
کیا اور اس کو گرفتار کر لیا پھر ایک دن قوم امالکہ سیمسن کو گرفتار کر کے جشن منا
رہی تھی تو سیمسن نے اللہ پاک سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے معاف کر دے اللہ پاک نے
سیمسن کی دعا کو قبول کرتے ہوئے اس کی تمام طاقت واپس لوٹا دی جس ستون کے ساتھ
سیمسن کو باندھا گیا تھا سیمسن نے اس ستون کو اپنی طاقتوں سے کھینچا تو سارے کا
سارا محل زمین بوس ہو گیا جس کے نتیجے میں دلائلہ اور قوم امالکہ کے بے شمار لوگ
موت کی گھاٹ اتر گئے۔
4۔
جیزیبل لبنان کے بادشاہ کی بیٹی بت پرست تھی اس کی شادی قوم بنی اسرائیل کے بادشاہ
اخیب سے ہوئی تھی جیزیبل نہ صرف اخیب کو بتو ں کی پوجہ پر لگایا بلکہ تمام ریاست
میں ایک خدا کو ماننے کی بجائے بے شمار بت بنا دئیے گئے تاکہ لوگ ان بتوں کی پوجہ
کرتے ہوئے گمراہی سے باہر ہی نہ نکلیں ایک دن قوم کے نیک بندے یرمیہ علیہ السلام
نےجیزیبل اور اس کے شوہر کو کہا کہ تم سب لوگ بتوں کی پوجہ کرنے کی بجائے اے خدا
کی عبادت کیا کرو اسی میں تمہاری بھلائی ہے اس ظالم عورت نے حضرت یرمیہ علیہ
السلام کے ساتھ ایک کھڑے بوڑھے پر نیزے سے
اتنا شدید وار کیا جس سے وہ وہی پر شہید
ہو گیا تو حضرت یرمیہ علیہ السلام نے اس عورت کو بد دعا دی بہت جلد تیرے حسین و
جمیل بدن کو کتے نوچ نوچ کر کھائیں گے ۔
اس
کے بعد اللہ پاک نے اس قوم پر حضرت الیاس علیہ
السلام کو بھیجا تاہم یہ ملکہ ایمان لانے کی بجائے آپ علیہ السلام کو بھی مارنے
کیلئے تیار ہو چکی تھی پھر ایک دن حضرت یرمیہ علیہ السلام کی بد دعا رنگ لائی اور
ملک اسرائیل پر سرحدوں کے قبائلی وحشیوں نے حملہ کر دیا ان لوگوں نے ملکہ جیزیبل کو زخمی حالت میں سڑک پر پھینک دیا یہاں تک کہ
بہت سے جنگلی کتے جائزیبل کے اردگرد جمع ہو گئے کتوں نے اس لاش کو نوچ نوچ کر
کھایا ۔
5۔
عطالیہ حضرت الیاس علیہ السلام کے دور سے
تعلق رکھنے والی جائزیبل ملکہ کی بیٹی تھی جس کا نام عطالیہ تھا یہ لڑکی بھی اپنی
ماں کی طرح بہت حسین اور جمیل تھی یہ بھی کافر تھی اس کی شادی یہودہ کے بادشاہ
یہورام سے ہو چکی تھی اس قوم میں بھی ہر جگہ بتوں کی عبادت ہونے لگی اس قوم پر بھی
وحشی لوگوں نے حملہ کیا جس وجہ سے وحشیوں نے یہورام کو بھی قتل کرنا چاہتے تھے لیکن
یہ بادشاہ ایک غار میں چھپ گیا جس وجہ سے اس غار میں اس بادشاہ کی موت ہو گئی ۔
جب
وحشی ملکہ عطالیہ اور اس کی بیٹی اغزلیہ کو اپنے ساتھ ہی لے گئے ان ماں بیٹیوں کو
بہت ذلیل اور رسوا کرنے کے بعد دونوں کو آزاد کیا اس کے بعد عطالیہ نے بتوں کی
عبادت کی کرنے کی بجائے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مذہب پر ایمان لے آئی لیکن اس
تبدیلی کو سال بھی نہ گزرا تھا کہ عطالیہ پھر کفرانہ کاموں کی طرف لوٹ گئی اس کی
بیٹی کے قتل کے بعد ملکہ عطالیہ کو ہی سلطنت یہودہ کا تاج پہنا دیا گیا اس نے اپنی
دولت کے نشے میں آ کر اپنے پوتوں کو قتل کروایا پھر اپنی رعایا پر بھی ظلم وستم کرنے لگی تاہم اس کا ایک پوتا
جو اس سے جان بچانے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔
یہودہ
کے لوگوں نے اسے اپنا بادشاہ بنا لیا یہ ملکہ عطالیہ اپنے محل کے باہر اپنی ہی قوم
کے ہاتھ بہت ذلیل اور رسوا ہو کر مر گئی عطالیہ کا ذکر بھی بائبل میں تفصیل کے
ساتھ موجود ہے۔
6۔
ناظرینِ گرامی ہیروڈیاز کو اگر تاریخ انسانی کی سب سے گناہ گار عورت کہا جائے تو
غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ عورت حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کی ذمہ دار ہے یہ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے چند برس پہلے کی بات ہے کہ ہیروڈیاز ایک غریب اور
حسین اور جمیل لڑکی تھی فلسطین کے خاندان کی بہو بن گئی ابتدا میں اس کی شادی
شہنشاہ کے دوسرے بیٹے ہروڈ سے ہو گئی اور اسی ہیروڈیاز کے گھر ایک لڑکی پیدا ہوئی
تاہم جب وراثت کی تقسیم کے بعد ہیروڈیاز نے دیکھا کہ وراثت سب سے زیادہ طاقتور فلب کے بھائی انٹی باس
کے حصے میں آئی ہے تو اس نے بھی اپنے شوہر
کو چھوڑ کر انٹی باس سے شادی کر لی ۔
انہی
دنوں اللہ کے پیارے نبی حضرت یحییٰ علیہ السلام جنہیں اہل کتاب یوہنہ کے نام سے
پکارتے ہیں وہ لوگوں کو درس و تدریس دینے لگے ہیروڈیاز کو آپ کی دینی باتیں پسند
نہ تھی جس کی وجہ سے اس نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو گرفتار کروایا ہیروڈیاز نے
کافی بار کوشش کی کہ وہ اپنے شوہر انٹی باس سے آپ علیہ السلام کے قتل کے احکامات
جاری کروا دے تاہم انٹی باس ایسا نہ کر سکا ہیروڈیاز کی بیٹی سلومی جب جوان ہوئی
تو اس نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی معصومیت اور نور کو دیکھا تو آپ علیہ السلام پر
فدا ہو گئی اس نے آپ علیہ السلام کو گناہ کی دعوت دی لیکن آپ علیہ السلام اس کی
طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے اب یہ دونوں ماں اور بیٹی یحییٰ علیہ السلام کے خلاف
ہو گئیں ایک دن بادشاہ انٹی باس کے سامنے سلومی نے بہت ہی بہہودہ ڈانس کیا کہ رقص
کرتے ہوئے اس نے اپنے جسم کے سارے کپڑے اتار دیئے اس رقص میں بادشاہ نے بہت دلچسپی
لی اور اس کو سلومی کا یہ رقص اتنا پسند آیا کہ وہ سلومی سے کہنے لگا تم کیا
مانگنا چاہتی ہو میں تمہیں ابھی حاضر کیے دیتا ہوں ۔
اس
عورت نے جواب دیا کہ میں چاہتی ہوں کہ آپ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کروا دیں
بادشاہ جو کے بھری ہوئی محفل میں سلومی سے
عہد کر چکا تھا اس نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کروا دیا اس طرح سلومی اور
اس کی ماں اس گناہ میں شامل ہوئیں۔
نمبر 7۔ ام جمیل ابو لہب کی بیوی تھی جس کا اصل
نام اروا بنت ہرب ہے اس کی آنکھوں کا بھینگاپن
نمایا تھا جس وجہ سے اس کو لوگ کانی کہا
کرتے قرآن پاک میں اللہ تعالی نے ابو لہب اور اس کی بیوی کو انتہائی سخت الفاظ میں
یاد کیا ہے اس کی وجہ ابو لہب اور اس کی بیوی کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے ساتھ سخت مشرکانہ رویہ ہے یہ دونوں میاں اور بیوی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کو تکلیف اور اذیت پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے ۔
روایت
کے مطابق ام جمیل نبی اکرم کی راہ میں کانٹیں بچھایا کرتی تھی جب سور ہ لہب نازل
ہوئی تو ابو لہب کی بیوی غصے سے بے قابو ہوئی اور بہت بڑا پتھر اٹھا کر مکہ میں
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکل پڑی یہ کعبہ میں حضرت ابو بکر راضی اللہ تعالی عنہ کے
سامنے اس حالت میں آئی کہ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اور یہ نبی اکرم ﷺکے خلاف
انتہائی نازیبہ الفاظ پڑھ رہی تھی ۔حالانکہ آپ ﷺ اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ
تعالی عنہ کے ساتھ موجود تھے ،لیکن اللہ تعالیٰ کے رحمت وکرم سے ام جمیل آپ ﷺکو نہ
دیکھ سکی تھی اور وہ وہاں سے گھر روانہ ہو گئی تھی ۔بے شک ام جمیل تاریخ کی بد بخت
ترین عورتوں میں شامل ہےکیوں کہ اس نےنبی آخر الزمان سرور کائنات،وجہہ تخلیق
کائنات حضرت محمد ﷺ کو نعوذ با اللہ بے شمار تقلیفیں پہچائیں۔
.jpg)
Comments
Post a Comment