ایک ٹرک کی افسوس ناک کہانی || جس میں 39 لوگوں کی لاشیں تھی || اس صدی کے عبرت انگیز اور سچے واقعات
ایک ٹرک کی افسوس ناک کہانی
دوستو
23 اکتوبر 2019 کو رات کے تقریباً پونے دو بجے انگلینڈ کے امرجنسی نمبر ٹرپل نائن
پر ایک ٹرک ڈرائیور کی کال آئی یہ آدمی بہت گھبرایا ہوا تھا اس نے آپریٹر کو بتایا
کہ یہ ایک ٹرک چلا رہا ہے اور اس کو ابھی پتا لگا ہے کہ اس ٹرک کے اندر 49 لوگوں
کی لاشیں موجود ہیں یہ ایک ایسا افسوسنا کیس ہے جس نے برطانیہ کو ہلا کر رکھ دیا
تھا یہ کہانی ہے ایسیکس لوری ڈیتس کی دوستو اس ٹرک ڈرائیور کا نام موریس رابنسن
تھا یہ 25 سال کا تھا اور پچھلے کچھ سال سے ٹرک چلانے کا کام کر رہا تھا موریس اس
وقت انگلینڈ کے ایک ٹاؤن گریز میں ٹرک چلا رہا تھا.
یہ ٹاؤن انگلینڈ کی کاؤنٹی ایسیکس میں موجود ہے
موریس نے امرجنسی نمبر پر کال کی اور فور ا
اس ٹرک کی طرف پولیس اور ایمبولینسز کو بھیج دیا گیا پولیس نے جب اس ٹرک کے
پیچھے لگے کنٹینر کو کھولا تو ان کےہوش اڑ گئے انہوں نے ایسا منظر پہلے کبھی نہیں
دیکھا تھا دوستو اس کنٹینر کے اندر ہر جگہ انسانی لاشیں بکھری ہوئی تھی یہ ٹوٹل 39
لوگ تھے 31 مر اور 8 عورتیں ،پولیس موریس سے تفتیش کرنے کے لیے اس کو اپنے ساتھ لے
گئے پولیس کو اب بہت سے سوالات کے جواب حاصل کرنے تھے ظاہر سی بات ہے کہ یہ ایک
بہت بڑی اور افسوس ناک خبر تھی جو برطانیہ کے کونے کونے میں پھیل چکی تھی لیکن
سوال یہ تھا کہ یہ 39 لوگ کون تھے یہ کیسے مرے اور اس ٹرک میں کیا کر رہے تھے
دوستو اس سے پہلے اس ٹرک کے متعلق کچھ جانتے ہیں یہ ٹرک یورپ کے ایک ملک بلگیریہ میں
رجسٹر کیا گیا تھا اس ٹرک کے مالک کی ایک کمپنی تھی ۔
جو
آئرلینڈ کے ایک آدمی کے نام پر تھی یہ ایک ریفریجریٹر ٹرک تھا یعنی اس ٹرک کے اندر
کولنگ سسٹم موجود تھا ایسے ٹرک میں ان چیزوں کو لے جایا جاتا ہے جو گرمی میں خراب
ہو سکتی ہیں گوشت پھل سبزی دوائیاں یا پھر کچھ کیمیکلز وغیرہ ایسے ٹرک میں ٹمپریچر
بہت کم بھی کیا جا سکتا ہے اور بہت زیادہ بھی، دوستو ایسے ٹرک کے جو کنٹینرز ہوتے
ہیں ان کو ائر ٹائٹ رکھا جاتا ہے کوئی انسان اگر اندر موجود ہو تو اس کی گھٹن سے
ہی موت ہو سکتی ہے اور یہی ان 39لوگوں کے ساتھ ہوا تھا ۔پولیس نے جب اس ٹرک کا جی ۔پی
۔ایس ڈیٹا چیک کیا تو ان کو پتہ لگا کہ یہ
ٹرک یورپ سے آ رہا تھا یورپ کے کئی ملکوں سے ہوتا ہوا یہ آئرلینڈ پہنچا اور وہاں
سے یو۔کے ۔میں داخل ہوا یورپ میں یہ ٹرک فرانس میں رکا ،بیلجیم میں بھی رکا ،اور
اسی دوران ان 39لوگوں کو اس ٹرک کے اندر سوار کیا گیا ۔
جہاں یہ چھپ گئے اور اب یہاں سے ان کو (یو۔کے )لے جایا جانا تھا دوستو یہ تمام لوگ ویتنام سے تھے لیکن یہاں سوال یہ تھا کہ یہ لوگ (یو۔کے)کیوں جانا چاہتے تھے اس کا کوئی پراپر جواب سامنے نہیں آیا تھا لیکن یہ مانا جاتا ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ خود( یو۔کے) پہنچنا چاہتے تھے اچھے مستقبل کا خواب لے کر یہ وہ لوگ تھے جو کسی طرح یورپ پہنچ گئے اور اب یورپ سے (یو۔کے) جانا چاہتے تھے ان میں سے کچھ لوگ فورس لیبررز بھی ہو سکتے ہیں یعنی یہ وہ لوگ تھے جن کو زبردستی اس ٹرک میں بٹھایا گیا تاکہ ان کو (یو۔کے) پہنچا کر وہاں ان سے کام کروایا
جا سکے انسانی سمگلرز یہ جرم
کرتے رہتے ہیں۔
Click here for more True Stories
لوگوں کو غلاموں کی طرح ایک ملک سے دوسرے ملک
سمگل کیا جاتا ہے جہاں ان سے کام کروایا جاتا ہے اور بدلے میں ان کو کچھ نہیں ملتا
دوستو ان 39 لوگوں کے پوسٹ مارٹم سے پتا چلا کہ ان کی موت ہائپاکسیا اور ہائپر
تھیرمیا سے ہوئی یعنی اکسیجن کم ہونے سے اور شدید گھٹن سے ،اصل میں اس ٹرک کے
کنٹینر میں جہاں یہ 39 لوگ تھے ٹیمپریچر 39 ڈگریز تک چلا گیا تھا اور لوگوں کے لیے
سانس لینا بھی مشکل ہو گیا تھا یہ مانا جاتا ہے کہ جب یہ ٹرک انگلینڈ میں داخل ہوا
تھا تو یہ تمام 39لوگ پہلے ہی مر چکے تھے یعنی یہ لوگ انگلینڈ میں پہیچ تو چکے تھے
پر ڈیدباڈیز کی صورت میں، پولیس اب جاننا چاہتی تھی کہ یہ انسانی سمگلرز کون تھے ۔
جنہوں
نے ان 39لوگوں کو اس ٹرک میں سوار کیا تھا پولیس ان 39لوگوں کی فیملیز سے پوچھ تاج
کرنا شروع کر دی تب پولیس کو پتا چلا کہ ایک 26 سال کی لڑکی جو اس ٹرک میں سوار
تھی اس نے مرنے سے پہلے اپنی ماں کو ایک میسج بھیجا تھا کہ میری موت ہونے والی ہے
اس کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اب اس کے لیے سانس لینا بھی ناممکن ہو گیا ہے یہ ٹرک
سے باہر بھی نہیں جا سکتی تھی آپ سوچیں کہ ایک ماں کے لیے یہ میسج پڑھنا ہی کتنا
مشکل ہو گا دوستو اس لڑکی کی ماں نے پولیس کو بتایا کہ اس نے ان انسانی سمگلرز کو
30 ہزار پاؤنڈز دیا تھے تاکہ یہ اس کی بیٹی کو ویتنام سے یو۔کے) پہنچا سکیں یعنی
ان میں سے کئی لوگ ویتنام سے یورپ لائے گئے تھے اور وہیں سے ان کو (یو۔کے )لے جایا
گیا تھا برطانیہ کی حکومت نے ان انسانی سمگلرز کو پکڑنے کیلئے ایک بہت بڑی ٹیم بنا
دی۔
Click here for more True Stories
برطانیہ کی نیشنل کرائیم ایجنسی برطانیہ کی
پولیس ڈیٹیکٹیف سب اس ٹیم میں شامل تھے وہ جو ٹرک ڈرائیور تھا موریس رابنسن اس نے
پولیس کو بتایا کہ اس کو کچھ پتا نہیں تھا کہ ٹرک کے کنٹینر کے اندر کیا ہے اس نے
بس اس ٹرک کو انگلینڈ کے ایک ٹاون (پرفریڈ) سے چلانا شروع کیا تھا لیکن بعد میں اس
کو احساس ہوا کہ ٹرک کے کنٹینر میں کچھ گڑبڑ ہے اور تب ہی اس نے کنٹینر کو کھولا
اور فورن ایمرجنسی نمبر پر کال کر دی دوستو پولیس کو موریس کی اس کہانی پر یقین
نہیں آ رہا تھا پولیس نے اب سی سی ٹی وی کیمراز کی مدد سے اس ٹرک کی ساری فوٹیج
نکالنا شروع کر دی اور اسی فوٹیج سے پولیس کا موریس پر شک یقین میں بدل گیا اصل
میں ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ یہ ٹرک ڈرائیور ٹرک سے اترتا ہے کنٹینر کو کھولتا
ہے اندر جھانگتا ہے اور پھر اس ٹرک میں بیٹھ جاتا ہے یعنی اس کو پتا تھا کہ اندر
انسانی لاشیں موجود ہیں لیکن اس کے 23 منٹ بعد اس نے ایمرجنسی نمبر پر کال کی تھی
یعنی یہ پہلے سے جانتا تھا کہ اندر لوگوں کی لاشیں موجود ہیں ۔
دوستو
پولیس کو موریس کے پاس سے ایک نوکیا کے پرانے فون کی بیٹری بھی ملی پولیس نے اسے
پوچھا کہ اس بیٹری کا فون کہاں ہے تو موریس نے کہا کہ میں نے یہ فون گھبرا کر
پھینک دیا تھا پولیس سمجھ گئی تھی کہ موریس کچھ چھپا رہا ہے انہوں نے بہت جلد
موریس کا وہ فون بھی ڈھونڈ لیا یہ فون ایک گٹر کے پاس پڑا ہوا ملا تھا اس کے اندر
ایک سم کارڈ بھی موجود تھی اسی سم کارڈکے ڈیٹا سے پولیس کو یہ ساری کہانی سمجھ میں
آگئی دوستو موریس نے جب وہ کنٹینر کھول کر چیک کیا تھا تو اس کے فوراً بعد اس نے
ایک آدمی کو فون کیا اس کا نام رونن ہیوبز تھا یہ موریس کا باس تھا پولیس نے موریس
سے مزید سوالات کیے لیکن اب یہ آدمی بہت گھبرا چکا تھا اس سے بولا بھی نہیں جا رہا
تھا پولیس سمجھ گئی تھی کہ یہ بھی اس جرم میں ملوث ہے ۔
انسانی
سمگلنگ کے جرم میں دوستو یہ ٹرک ڈرائیور اس کا باس رونن اور دو اور لوگ اس گینگ کو
چلا رہے تھے لیکن باقی کے لوگ یورپ میں چھپے ہوئے تھے یورپ میں ایک بہت بڑا سرچ
آپریشن شروع کیا گیا اور ان سب کو اریسٹ کر لیا گیا اس گینگ میں ان چار لوگوں کے
علاوہ بھی کئی اور لوگ شامل تھے ویتنام میں آئرلینڈ میں یورپ میں ویتنام میں بھی
پولیس نے کچھ لوگوں کو اریسٹ کیا تھا جو ویتنام سے لوگوں کو یورپ تک پہنچاتے تھے
دوستو پولیس کو یہ بھی پتا لگا کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ فرانس سے ہی اس ٹرک میں
سوار ہوئے تھے ان چار لوگوں نے ان 39 لوگوں سے اچھے خاصے پیسے لئے تھے اور بدلے
میں ان کو (یو۔کے )لے جانے کا وعدہ کیا تھا اسی ٹرک کے کنٹینر میں چھپا کر لیکن
ٹمپریچر بڑھنے کی وجہ سے (یو۔کے) پہنچتے ہی ان 39لوگوں کی موت ہو گئی تھی جیسا کہ
میں نے کہا کہ اس واقعے نے برطانیہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا دوستو اس طرح کے سچے اور
افسوسناک ،خوفناک واقعات پڑھنے کے لیے
ہمیں لازمی فولو کرے۔شکریہ
Click here for more True Stories

Comments
Post a Comment